ارشد ندیم کو کھیل کیلئے گراؤنڈ میسر نہیں تھا، والد محمد اشرف

ارشد ندیم کو کھیل کیلئے گراؤنڈ میسر نہیں تھا، والد محمد اشرف

ٹوکیو اولمپکس 2020 کے فائنل میں رسائی حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کے والد محمد ارشد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے نیزہ باز ارشد ندیم نے بغیر حکومتی سرپرستی کے خود محنت کی، اُسے کھیل کیلئے گراؤنڈ میسر نہیں تھا۔

ٹوکیو اولمپکس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ارشد ندیم کے والد محمد اشرف نے جیونیوز سے گفتگو میں کہا کہ ارشد کرکٹ میں دلچسپی رکھتا تھا مگر میں نےنیزہ بازی کامشورہ دیا، ارشدکے کلب جوائن کرنے کے اخراجات راج مستری کا کام کر کے ادا کیے۔

 ارشد ندیم کے والد نے کہا کہ ارشد ندیم کے اخراجات اٹھا نےکیلیے راج مستری کا کام کرتا ہوں، ارشد ندیم نےگھر کےصحن میں اور گلیوں میں پریکٹس کی،  نیزہ بازی اور جسمانی فٹنس کے لئے آلات گھر میں خود تیار کیے۔

محمد اشرف نے کہا کہ ارشد ندیم کو پریکٹس کے لیے ملتان ، فیصل آباد اور لاہور بھیجنےکے اخراجات میں نےاٹھائے اور ارشد ندیم نے بغیر حکومتی سرپرستی کے خود محنت کی۔

انہوں نے بتایا کہ ارشد کا چھوٹا بھائی بھی نیزہ باز بننا چاہتا ہے، اسے تربیت کیلئے لاہور بھیجا ہے۔

ارشد ندیم کے والد نے حکومت سے ایتھلیٹس کیلئے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی گراؤنڈ بنائے  جہاں کھلاڑی پریکٹس کر سکیں۔



Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے