امام مہدی (عج)کا ظہور کتنا قریب ترآچکا ہے ۔ کیا سفید طاعون کرونا وائرس ہے

امام مہدی (عج)کا ظہور کتنا قریب ترآچکا ہے ۔ کیا سفید طاعون کرونا وائرس ہے

پردہ غیبت میں مسند ہیبت پر جلوہ گر اس دورکاولی اللہ، خلیفۃ اللہ، بقیۃ اللہ ،اللہ کی الہامی خلافت کا آخری آمین ہم نام،ہم شکل پیغمبر محمد مصطفی ،دلبندعلی المرتضی،فرزند زہرا سلام اللہ علیہا کا ظہور قریب ترا چکا ہے ۔آپ حجت خدا کی آمد کے لیے کتنے تیار ہیں۔

دعا ظہور امام مہدی اور مودت

سب سے بڑی دعا ظہور امام ہے

اپنی ذات کو ان سے وابستہ کرنا ہے۔ ان سے محبت نہیں مودت کرنا ہے اور مودت ہی ہر قربانی دینے پر آمادہ کرتی ہے ۔

جب ہم تن من دھن خاندان کی عزت و ناموس اس الہی نمائندہ کی ذات کی نذر کرنے پر تیار ہونگے ۔

تو ہمیں اس کے ظہور پر نور کی سعادت و زیارت بھی حاصل ہوگی ،اور اس کے انصار میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہوگا ۔جب اپنے وقت کے معصوم (عج)کا قرب حاصل ہو جائے تو تمام تر وسائل انسان کے لیے مہیا کرنا ہے ۔اس کے ذمہ ہوتا ہے۔

محبت اور مودت کا الگ الگ فلسفہ ہے  

محبت ہو جاتی ہے جبکہ مودت کی جاتی ہے یعنی دوسرے الفاظ میں عشق کی انتہا مودت قرار پاتی ہے اگر مودت کی نعمت حاصل ہو جائے۔

 تو جون جیسےحبشی کا خون ،سید شہداء کے خون کے ساتھ مل کرمٹی کو خاک شفاء بنانے پر قادر ہو جاتا ہے ۔جب ہمارے تمام تر جذبے اپنے امام عصر (عج )کے لیے ہوں گے ۔تو اس کی نظر کرم کے طفیل ہر قسم کی نعمت زیر قدم ہوگی۔ ہمارے اندر کے نقائص جو گناہ کی شکل میں ہیں ، وہ نیکیوں سے بدل دیے جائیں گے ۔

کیا سفید طا عون اس سے مراد کورونا وائرس ہے

صادق آل محمد امام جعفر صادق علیہ السلام ظہور امام(عج)  کے بارے میں فرماتے ہیں۔ ظہور امام قائم  (عج)سے قبل پانچ علامتیں ضروری ہے

 نمبر ایک ، ماہ رمضان میں آواز

نمبر دو، سفیانی اور اس کے بعد خراسانی کا خروج

 نمبر تین ،نفس ذکیہ کا قتل

 نمبرچار، مقام بیدا(مکہ معظمہ کےقریب ) کا زمین میں دھنس جانا

 نمبر پانچ ،بنو عباس کی حکومت کا کل عالم سے ختم ہوجانا

درج بالا علامات سے قبل دو طاعون یعنی سفید طاعون اور سرخ طاعون کا پھیلنا ضروری ہے

سرکار صادق آل محمد علیہ السلام سفید طاعون ور سرخ طاعون کی وضاحت فرماتے ہیں

سفید طاعون کثرت اموات ہے اور سرخ طاعون قتل و غارت وجنگ ہے ۔

 کرونا وائرس یا بائیو وار اور نئی تحقیقات

کرونا وائرس کو عالمی وبا  ء قرار دیا جا چکا ہے ٹیکنالوجی انسٹیٹیوٹ آف انڈیا اور لوئس پاسچر انسٹی ٹیوٹ کی تحقیقات کے مطابق :

یہ قدرتی  وائرس نہیں ہے ۔ بلکہ کسی لیب میں تیار کیا گیا ہے اس کو بائیو ویپن کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ کرونا وائرس تین مختلف وائرسز کا مجموعہ ہے ۔

جو کہ انسانی دماغ کا کام ہے ہر آنے والی لہرمیں کرونا وائرس اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے اور پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے اورکثرت اموات کا سبب بنتا جا رہا ہے ۔

نتیجہ :

عالمی ادارہ صحت نےہر ملک کے کرونا وائرس کو سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حروف تہجی کے اعتبار سے الگ الگ نام دے دیے ہیں ۔

اب غور طلب پہلو یہ ہے

 کہ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق:

 دنیا کو اب کرونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق یہ بائیو ویپن ہے ،تو پھر اس کو سفید طاعون یعنی کثرت اموات جو دنیا میں ہو رہی ہیں ،تو اس کے بارے میں سرکار صادق آل محمد نے صدیوں پہلے فرما دیا تھا ۔

اب صورتحال کا جائزہ لیں :

دنیا میں کرونا وائرس سے تقریبا ایک سال میں 35لاکھ اموات ہوئی ہیں ا۔

اگر یہی صورت حال 2023 تک جاری رہتی ہے تو ایک تہائی حصہ دنیا کرونا وائرس یا سفیدطاعون کی لپیٹ میں آ جائے گی

کیونکہ اس کا ابھی تک مکمل علاج کوئی نہیں آیا اس کے بعد سرخ طاعون

یعنی جنگ و جدال کا دور شروع ہو جائے گا

2026 میں دجال خروج کرے گا

اور 2027 میں میں نظام الہیہ کے وارث کا سال ہوگا ۔ کربلا دس محرم 10 ہاڑ بروز جمعہ 61 ھجری کو ہوا تھا ۔یہ تاریخ ایک ساتھ با لترتیب ساٹھ سال کے بعد آتی ہے ۔

اب یہ تاریخ پھردس محرم 10 ہاڑ جمعہ کا دن 2027 میں آرہا ہے

نوٹ:

اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں،شکریہ

Summary
امام مہدی (عج)کا ظہور کتنا قریب ترآچکا ہے ۔ کیا سفید طاعون کرونا وائرس ہے
Article Name
امام مہدی (عج)کا ظہور کتنا قریب ترآچکا ہے ۔ کیا سفید طاعون کرونا وائرس ہے
Description
پردہ غیبت میں مسند ہیبت پر جلوہ گر اس دورکاولی اللہ، خلیفۃ اللہ، بقیۃ اللہ ،اللہ کی الہامی خلافت کا آخری آمین ہم نام،ہم شکل پیغمبر محمد مصطفی ،دلبندعلی المرتضی،فرزند زہرا سلام اللہ علیہا کا ظہور قریب ترا چکا ہے ۔
Author
Publisher Name
Jaun News
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے