اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ،طلباء کی آواز،وزیر اعظم خان کے نام اپیل

آج  یہ کیا ہو رہا ہے ۔کیوں ہو رہا ہے ۔ذرا سوچئے ،یہ طلباء قوم کے بچے سڑکوں پر کیوں لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سامنا کر رہے ہیں ۔کیا جرم ہے ،کوئی قصور ہے ،کوئی غلطی ہے۔ یہ کسی ماں کے بیٹے نہیں ہیں یہ کسی گھر کا چراغ نہیں ہیں۔ جو آج بےیارومددگار سڑکوں کی زینت بن گئے ہیں

کبھی کسی نے سوچا ہے تعلیم کے ساتھ کتنا بڑا کھلواڑ ہوا ہے

لاکھوں طلبہ کا مستقبل اندھیروں میں چلا گیا ہے۔پچھلے سال اسکول وکالج سارا سال کھلے اور اکیڈمیز نے بھی پوری محنت کروائی ۔جب نویں اور گیارہویں کے امتحان کا وقت آیا ،تو بغیر نمبروں کے پرموٹ کر دیا گیا۔ جبکہ او لیول اور اے لیول جوکہ امیروں کے بچے پڑھتے ہیں سکول گریڈ نمبر دیے گئے جبکہ غریب کے بچوں کو خالی پرموٹ کر دیا گیا۔

 یہ کہاں کا قانون ہے

 2020 کے بعد وبا کی صورت حال کی وجہ سے اسکول و کالجز بند کر دیے جاتے رہے اور اس کے ساتھ اکیڈمی اور ٹیوشن سنٹر زکو بھی سیل اور جرمانے کئے گئے آج جو پتر  کپتربن چکے ہیں ۔

ان کا قصور کیا ہے ،

جو امتحان ایک سال میں ہوتا تھا اس  کا عرصہ ڈیڑھ سال پر محیط ہوگیا اور تعلیمی سرگرمیاں ڈیڑھ سال میں کتنے دن رہی ان دنوں کو شمار کر لیں دو اور دو چار ہوتے ہیں چھے نہیں ہوتے ۔بڑے ذہین فطین لوگ حکومت اور ماہرین تعلیم موجود ہیں ۔

اس کا حل نکال سکتے ہیں ،

سمارٹ سلیبس حل نہیں ہے ۔یہ وبا ابھی جانے والے نہیں ،جس کا پوری دنیا کو علم ہو چکا ہے۔ کوئی تعلیمی نظام میں امتحان کا مستقل طریقہ کار بنائیں ۔پچھلے سال نو یں اور گیارہویں کا بچہ سارا سال محنت کر کے ساڑھے چار سو نمبر لے رہا تھا ۔اب  وہ    بچہ عالمی وبا  اورسکول وکالجز کی بندش کی وجہ سے 200 نمبر بھی بڑی مشکل سے لے گا۔

کہا  ں جائے گا غریب کے بچوں کا مستقبل: ذرا سوچیں

خان صاحب !

 یہ بچے جو آج سڑکوں پر ہیں امتحان سے نہیں گھبراتے اور نہ ہی کسی میدان سے بھاگتے ہیں۔ یہ پاکستانی قوم کے بچے ہیں۔ دلیر ہیں جرات اور بہادری ان کی گھٹی میں ہے ۔اوریہ ینگ جنریشن آپ کی پرستار ہے۔ آپ سے بہت بہت پیار کرتی ہے۔ آپ کسی ایجنسی سے خفیہ سروس کروا کر دیکھ لیں۔

 یہ آپ کی ٹائیگر فورس ہے

یہی بچے آپ کےسوشل میڈیا پر فالورز ہیں ۔

   خان صاحب !

لاکھوں بچوں کی نگاہیں آپ کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ یہ انصاف مانگتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین سے، جو کے ان کا فخر ہیں ،مان ہیں۔یہ لاکھوں بچوں پر جو تشدد ہورہا ہے۔ یہ آپ کا سرمایہ ہیں ۔

خدارا  ،

اپنے سرمایہ کو ضائع

ہونے سے بچائیں ۔ان کی امیدوں کو ناامیدی میں تبدیل نہ ہونے دیں ۔یہ آپ کی حکومت کے خلاف ایک بہت بڑی سازش کھڑی کی گئی ہے ۔

خدارا ،

اس پر خصوصی توجہ دیں ۔خداداد صلاحیتوں کی بدولت آپ ہر مسئلے کا حل ڈھونڈ لیتے ہیں ۔یہ تو پھر بھی آپ کے اپنے بچے ہیں ۔

 ؛ماپے کماپے نہیں ہوندے پتر کپتر ہوندے نیں؛

نوٹ :

اس پوسٹ کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ طلباء کی آواز وزیراعظم خان تک پہنچ سکے۔

Summary
اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ،طلباء کی آواز،وزیر اعظم خان کے نام اپیل
Article Name
اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے ،طلباء کی آواز،وزیر اعظم خان کے نام اپیل
Description
آج یہ کیا ہو رہا ہے ۔کیوں ہو رہا ہے ۔ذرا سوچئے ،یہ طلباء قوم کے بچے سڑکوں پر کیوں لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سامنا کر رہے ہیں ۔کیا جرم ہے ،کوئی
Author
Publisher Name
Jaun News
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے