بے نامی پراپرٹی لینڈ مافیا اور پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ فاونڈیشن

بے نامی پراپرٹی اور لینڈ مافیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔ بے نامی پراپرٹیز کو حکومتی اداروں سے چپھانے کےلیے مختلف طریقہ کار اپنائےجاتے ہیں۔ جس سے کبھی فالودے والا اور ریڑھی والے سے آگے نچلی سطح تک نہیں جاسکے حکومتی اداروں اور راناعظیم جیسے سئینر صحافی کو جو ایسی خبروں کو پتال سے نکال کر لاتے ہیں۔ کو کسی قسم کی خبر نہ پہنچ سکے ۔ بے نامی پراپرٹی کو چھپانے کے طریقہ کار میں ایک طریقہ اسٹام فروش کے رجسٹر میں اسٹام پیپرز کے اندراج کی شکل میں اربوں کھربوں کے بے نامی پراپرٹیز کو پوشیدہ کیا جاتا ہے۔

        پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ سوسائٹی

جب چوہدری پرویز الہی پنجاب کے وزیر اعلٰی تھے ۔ پنجاب گورنمنٹ کے ملازمین کو بالاقساط مکان دینے کا قانون بنایا۔ پنجاب گورنمنٹ ہاوسنگ سوسائٹی کی ممبر شپ کے بعد ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی شروع ہوگی ۔ دور بدلا قانون بدلے لینڈ مافیا اس پنجاب گورنمنٹ ہاوسنگ سکیم کو کمائی ذریعہ بنانے کے لیے اپنے آدمی فاونڈیشن میں تعینات کردیے اور پورے پنجاب میں سہولت کار گئے ۔ ان سہولت کاروں نے ممبر شپ فائلز چوکہ پنشنرز پا ان کی بیوگان کے پاس تھیں ان کو چھینا شروع کردیا ۔ فاونڈیشن کا عدم تعاون اور سہولت کاروں کی دھمکیاں اور جعل سازی کے ذریعےپنجاب گورنمنٹ ہاوسنگ سوسائٹی کی ممبر شپ فائلز کی خریدوفروخت کی شکل میں پنشنرز کو ان کے حق سے محروم کیاگیا۔

جعلی اسٹام پیپرز 

پنجاب گورنمنٹ ہاوسنگ سوسایٹیز کی ممبر شپ فائلز کی خریدوفروخت کے لیے مافیا نے ایک اسٹام فروش کی خدمات حاصل کیں ۔ یہ اسٹام فروش احاطہ کچہری تحصیل حاصل پور ضلع بہاولپور میں کام کرتا ہے اس اسٹام فروش نے قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے معاہدہ بیغ کے اسٹام پیپرز پنجاب بینک سے جن کی مالیت 1400 روپے ہے۔ خریدنے کی بجائے 300 روپے کے اسٹام پیپرز پر درج کردیے تاکہ یہ بے نامی پراپرٹی سرکاری ریکارڈ پر آنے کی بجائے اسٹام پیپرز پر ہی رہے ۔ اس طرح ایک تو پنجاب گورنمنٹ کو ٹیکس کی مد میں لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ اور دوسرا خریداروں کے نام چھپائے گے تاکہ ان خریداروں کی کوئی حکومتی ادارہ پوچھ گچھ نہ کرسکے ۔

مزید تفصیل 

پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ فاونڈیشن کی ہاوسنگ سوساٹیز پنجاب کے ڈویژنل ھیڈ کوارٹرز میں واقع ہیں ۔ جبکہ پورے پنجاب سے گورنمنٹ ہاوسنگ سوسائٹی کے ممبران سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے احاطہ کچہری تحصیل حاصل پور ضلع بہاولپور فائلز کو فروخت کرنے کے لیے آتے ہیں۔

آخر کیوں ۔ وجہ کیا ہے؟ یہ بھی بے نامی پراپرٹیز کو چھپانے کا ایک خفیہ طریقہ ہے ۔ جیسے دور دراز سے میلوں کا سفر طے کر کے پنجاب گورنمنٹ ہاوسنگ سوسائٹیز کے ممبران  ایک اسٹام فروش کے پاس احاطہ کچہری تحصیل حاصل پور ضلع بہاولپور میں آتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان فائلز کو خریدتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے پورے پنجاب کی مختلف تحصیلوں کے لوگ ایک ہی اسٹام فروش کے پاس میلوں کا سفر طے کرکے کیوں آتے ہیں۔ پنجاب گورنمنٹ ہاوسنگ سوسائٹیز کی فائلز خریدنے والے کون لوگ ہیں ۔ وہ سرکاری افسراں تھے یا بڑے عہدوں سے ریٹائر ہوئے ہیں ان لوگوں کے پاس اربوں کھربوں کی بے نامی پراپرٹیز خریدنے کے لیے کونسا جاودئی چراخ ہے۔

اس اسٹام فروش کا ریکارڈ چلت رجسٹر اسٹام پیپرز 2014 تا2017 تک جو کہ اسٹنٹ کمشنر حاصل پور ضلع بہاولپور کے ریکارڈ روم میں جمع ہے ۔ اس کے رجسٹرز میں اربوں کھربوں کی بے نامی پراپرٹیز کو چھپایا گیا ہے ۔ اگر کوئی تحقیقاتی ادارہ اسکی تحقیقات کرئے گا تو معلوم ہوگا کہ لینڈ مافیا نے گورنمنٹ کو ٹیکس کی مد مین لاکھوں کا نقصان کیسے پہنچایا گیا ہے۔

         کوئی دیکھے نہ دیکھے خان تو دیکھے گا

         کوئی سنے نہ سنے خان تو سنے گا

Summary
بے نامی پراپرٹی لینڈ مافیا اور پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ فاونڈیشن
Article Name
بے نامی پراپرٹی لینڈ مافیا اور پنجاب گورنمنٹ سرونٹ ہاوسنگ فاونڈیشن
Description
بے نامی پراپرٹی اور لینڈ مافیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔ بے نامی پراپرٹیز کو حکومتی
Author
Publisher Name
Jaun News
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے