حضرت محمد (ص) کی عظیم کامیابی ۔اور خانہ کعبہ بتوں کو توڑا

مدینہ میں رہتے ہوئے اللہ کے رسول (ص) کو آٹھ سال گزر گئے تھے ۔ اب مدینہ ایک بڑا شہر بن چکا تھا اور مسلمانوں کی تعداد ارتنی زیادہ ہوچکی تھی کہ کوئی لشکر ان کو شکست نہیں دے سکتا تھا ۔ اب وہ وقت آگیا تھا کہ رسول (ص) اپنے اصحاب ک ساتھ مکہ جائیں اور خانہ کعبہ کو لکڑی اور پھر پتھر کے بتوں سے پاک کریں

  اللہ کے رسول نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ ایک سفر کے لیے تیار ہو جائیں ۔ مسلمانوں نے فورا آمادگی کا اظہار کیا اور چند ہی دنوں میں دس ہزار مسلمانوں کا ایک عظیم لشکر تیار ہوگیا ۔ چناچہ رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو رسول (ص) نے مکہ کی جانب حرکت کا حکم دیا تو تمام لو گ روانہ ہو کئے۔

    جب لشکر مکہ کے نزدیک پہنچا تو سورج غروب ہونے والا تھا ۔ نبی اکرم (ص) نے حکم دیا کہ وہیں پڑاؤ دال دیا جائے  اور آج رات آرام کرنے کے بعد اگلے دن مکہ میں داخل ہوں گے ۔ یہ حکم سنتے ہی مسلمانوں نے اپنی سواریوں سے اتر گئے اور لگا دیے ۔ مسلمانوں نے کھانا پکانے اور روشنی کا انتظام کرنے کے لئے لکڑیاں جمع کرکے اپنے خیموں کے آگے روشن کرلئے ۔ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور پورے میدان میں ہر طرف آگ کے شعلے نظر آرہے تھے ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آسمان کے ستارے زمیں پر اتر آئے ہوں ۔

   مکہ کے رہنے والے کچھ لوگ وہاں سے گزرے تو انہوں نے مسلمان سپاہیوں کا یہ عظیم لشکر دیکھا تو فورا جا کر کفار قریش کو بتایا کہ مسلمان مکہ کے قریب پہنچ گئے ہیں ۔

   یہ سنتے ہی کفار قریش خوفزدہ ہوگئے ۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں ؟ کافروں کا سربراہ ابو سفیان مسلمان سپاہیوں کو دیکھنے کے لیے ان کے خیموں کے نزدیک پہنچا ۔ اس نے جب مسلمانوں کا اتنا بڑا لشکر دیکھا تو پریشان ہوگیا ۔ وہ سمجھ گیا کہ اب کفار مکہ کا کام تمام ہوجئے گا ۔ اب وہ مسلمانوں سے جنگ نہیں کرسکتا ۔ وہ جانتا تھا کہ کافروں نے اس کے کہنے پر حضرت محمد (ص) اور مسلمانوں کو بہت اذیت دی ہے۔ چنانچہ اس نے سوچا کہ کسی طرح سے حضرت محمد کے پاس جاکر ان سے معافی مانگ لے تاکہ وہ اسے پناہ دے دیں اور قتل نہ کریں

   اللہ کے رسول دنیا کے رحمدل ترین انسان تھے۔ وہ رحمت للعالمین تھے۔ جب سفیان رسول (ص) کے چچا حضرت عباس کے ذریعے سے حضرت محمد (ص) کے پاس پہنچا تو حضور (ص) نے اس کو امان دے دی اور تمام دشمنوں کو عام معافی دیتے ہوئے یہ علان کردیا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ اس کے گھر میں چلے جائیں وہ امان میں ہیں ۔ جو ہتھیار ڈال کر اپنے گھر کے اندر چلا جائے اور دروازہ بند کرلے وہ امان میں ہے ، جو مسجد الحرام میں چلا جائے وہ امان میں ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس کو نقصان پہنچائے۔

اگلے دن اللہ کے رسول نے اپنی عظیم فوج کو چار بڑے گروہوں میں تقسیم کیا اور ہر گروہ کو مکہ کی ایک جانب سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا ۔ جن بت پرستوں اور کافروں نے مسلمانوں اس قدر تکلیفیں پہنچائی تھیں ، جب انہوں نے مسلمانوں کی اتنی طاقت دیکھی تو ڈر کے مارے اپنے گھر کے دروازے بند کرکے اندر بیٹھ گئت ۔ مسلمانوں کی اتنی طاقت دیکھی تو ڈر کے مارے اپنے گھر کے دروازے بند کرکے اندر بیٹھ گئے ۔ مسلمان اللہ اکبر کے نعرے بلند کرنے لگے اور سورہ فتح کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے اور پھر رسول (ص) کے پیچھے پیچھے مسجدالحرام میں داخل ہوگئے ۔ نبی اکرم (ص) نے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور اس کے بعد اپنی لاٹھی سے خانہ کعبہ پر نصب بتوں کو گرادیا ۔ اس کے بعد اپنے چچازاد بھائی علی سے کہا کہ میرے شانوں پر چڑھ کر کعبہ کی دیواروں کے اوپر جو بت لگے ہوئے ہیں اوہ گرادیں ۔ چنانچہ حضرت علی نے ان کی تکمیل کی اور بتوں کو گر کر توڑ دیا ۔ جب سارے بت ٹوٹ گئے تو رسول (ص) نے جناب بلال کو اذان دینے کا حکم دیا ۔ حضرت بلال نے اذان دی تو سب مسلمان نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ بت پرستوں کے سردار وہاں آگئے تھے اور مسلمانوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے وہ اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں حضرت محمد (ص) ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے جب نماز ختم ہوئی تو اللہ کے رسول ان کے پاس گئے اور فرمایا تم خود بتاؤ میں تمھارے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ مکہ کے لوگ خوفزدہ ہوکر کہنے لگے آپ ہمیشہ نیکی کی ہے اور آج بھی ہم آپ سے یہی امید رکھتے ہیں ۔ آپ عظیم انسان ہیں اور ایک عظیم انسان کے بتیجے ہیں ۔ ہم نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا ہے۔

    رحمت للعالمین نے فرمایا میں تم سب کو معاف کرتا ہوں ۔ تم سب آزاد ہو ۔ میں خدا سے بھی دعا کرتا ہوں کہ تمہیں معاف کردے۔

  یہ سنتے ہی مکہ والے خوش ہوئے ۔ نبی اکرم (ص) نے کچھ عرصہ وہیں گزارا اور پھر عمرہ انجام دے کر دوبارہ مدینہ لوٹ گئے۔

Summary
حضرت محمد (ص) کی عظیم کامیابی ۔اور خانہ کعبہ بتوں کو تورنا
Article Name
حضرت محمد (ص) کی عظیم کامیابی ۔اور خانہ کعبہ بتوں کو تورنا
Description
مدینہ میں رہتے ہوئے اللہ کے رسول (ص) کو آٹھ سال گزر گئے تھے ۔ اب مدینہ ایک بڑا شہر بن چکا تھا اور مسلمانوں کی تعداد ارتنی زیادہ ہوچکی تھی کہ کوئی لشکر
Author
Publisher Name
Jaun News
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے