خاتون جیولین تھرو چیمپئن، پاکستانی ایتھلیٹس کے بہتر مستقبل کیلئے پُرامید

خاتون جیولین تھرو چیمپئن، پاکستانی ایتھلیٹس کے بہتر مستقبل کیلئے پُرامید

ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی دیکھنے کے بعد پاکستان کی خاتون جیولین تھرو چیمپئن فاطمہ حسین اب پاکستانی ایتھلیٹس کے بہتر مستقبل کے لیے پُرامید ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی نے پاکستان کے بہت سے کھلاڑیوں کو نئی امید دی ہے جو اب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کو بھی اہمیت دینا شروع کر دے گا۔

خیال رہے کہ ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں ٹریک اور فیلڈ مقابلوں کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں۔

اس مقابلے میں اپنی شاندار کارکردگی سے ہی انہوں نے اپنی پہچان بھی بنائی ہے، اگرچہ وہ میڈل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے لیکن یقینی طور پر انہوں نے اتنے مشکل حالات میں ٹریک اور فیلڈ مقابلوں کے لیے براہ راست کوالیفائی کرکے بہت سے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔

پاکستان میں ارشد ندیم کی خاتون ہم منصب جویلین تھرو چیمپئن فاطمہ حسین ان کی ٹوکیو اولمپکس میں شاندار کارکردگی دیکھنے کے بعد اب پاکستانی کھلاڑیوں کے بہتر مستقبل کے لیے پُرامید ہیں۔

خاتون جیولین تھرو چیمپئن، پاکستانی ایتھلیٹس کے بہتر مستقبل کیلئے پُرامید

فاطمہ نے پاکستانی ایتھلیٹس کی خستہ حالی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہمیں وہ نہیں ملتا جو ہمیں چاہیے، دنیا بھر کے کھلاڑی بار بار تربیتی کیمپ اور دیگر سہولیات حاصل کرتے ہیں جو ہمارے لیے دستیاب نہیں ہیں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’یہاں تک کہ ہمارے پاس ٹریننگ کے لیے مناسب جوتے بھی نہیں ہیں اور کھلاڑی سیکنڈ ہینڈ جوتے استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور انہیں  مرمت کرکے استعمال کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر نئے جوتے نہیں خرید سکتے۔‘

فاطمہ نے خواتین کے بین الاقوامی تھرو کے معیار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خواتین کے مقابلوں میں بین الاقوامی تھرو کا معیار تقریباََ 60 میٹر ہے اور یہی میں حاصل کرنا چاہتی ہوں لیکن اس کو حاصل کرنے کے لیے مجھے مناسب تربیت اور سہولیات کی ضرورت ہے جس میں کوچنگ اور دیگر معاونت شامل ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم کی کارکردگی کے بعد ایتھلیٹکس کے بارے میں اور خاص طور پر جیولین تھرو کے لیے کچھ سنجیدگی نظر آئے گی۔‘

خاتون جیولین تھرو چیمپئن، پاکستانی ایتھلیٹس کے بہتر مستقبل کیلئے پُرامید

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر مجھے مواقع فراہم کیے جائیں تو مجھے یقین ہے کہ میں ملک کے لیے میڈل بھی جیت سکتی ہوں، میں اس وقت اسلامی یکجہتی کھیلوں اور جنوبی ایشیائی کھیلوں میں میڈیلز کے لیے کوشاں ہوں۔‘

فاطمہ کو لگتا ہے کہ اولمپک گیمز میں ارشد ندیم اور طلحہ طالب کی کہانی ملک کو یہ بتانے کے لیے کافی ہونی چاہیے کہ کھیلوں سے وابستہ لوگ سپورٹ اور تسلیم کیے جانے کے مستحق ہیں۔ لہٰذا، کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں پر بھی توجہ دی جائے۔

واضح رہے کہ فاطمہ نے نیشنل گیمز 2019 میں 43.93 کے تھرو سے گولڈ میڈل جیتا۔ یہ پاکستان کی قومی خاتون جیولین تھرو چیمپئن بھی ہیں، جو 2016 سے ناقابل شکست ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔



Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے