خوب صورت ترین پھول

خوب صورت ترین پھول

پرانے زمانےکی بات ہے حجاز کی سر زمین پر(جسے آج کل سعودی عرب کہتے ہیں) ایک شہر تھا ۔ جس کا نام مکہ تھا ۔ وہاں کے رہنے والے لوگ قبیلئہ قریش کے نام سے مشہور تھے ۔ عربوں کے تمام قبیلے قبیلئہ قریش کی بہت عزت کیا کرتے تھے ۔ اس قبیلے کے سردار کا نام جناب عبدالمطلب تھا ۔

جناب عبدالمطلب کے دس بیٹے تھے ۔ ان میں سے ایک کا نام عبداللہ تھا ۔ جو تمام میں سب سے زیادہ خوبصورت ، رحمدل اور بہادر تھے ۔ وہاں کے سب لوگ ان نیکیوں اور اچھی عادتوں کی وجہ سے ان سے بہت محبت کیا کرتے تھے ۔ جناب عبدالمطلب بھی اپنے اس بیٹے کو دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ چاہتے تھے ۔ جب عبداللہ جوان ہوئے تو جناب عبدالمطلب نے اس زمانے کی بہترین لڑکی کے ساتھ ان کی شادی کر دی جن کا نام بی بی آمنہ تھا ۔

اس دور میں لوگ قافلوں کی صورت میں سفر کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک دن جناب عبداللہ نے حضرت آمنہ کو بتایا کہ وہ تجارت کی غرض سے ایک قافلے کے ساتھ شام جا رہے ہیں ۔ حضرت آمنہ نے جناب عبداللہ کا سامان تیار کرنے میں مدد کی اور پھر جناب عبداللہ حضرت آمنہ کو خدا حافظ کہ کر اپنے اونٹ پر سوار ہوگئے اور شام کی طرف روانہ ہوگئے۔

چند مہینوں بعد وہ قافلہ شام سے واپس آگیا ۔ جب لوگوں کو قافلے کے آنے کی اطلاع ملی تو سب لوگ اس استقبال کے لئے جانے لگے ۔ بی بی آمنہ بھی اپنے شوہر کے استقبال کے لئے آئیں ۔ جب انہوں نے چاروں طرف دیکھا تو ان کو اپنے شوہر کہں دیکھائی نہ دیے تو وہ پریشان ہوگئیں تو پریشانی کے عالم میں انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ راستہ میں آتے ہوئے وہ بیمار ہوگئے تھے اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ یہ خبر بی بی آمنہ سن کر بہت افسردہ ہوئیں اور جب یہ خبر  جناب حضرت عبدالمطلب تک ملی تو وہ بہت افسردہ ہوئے ۔

بی بی آمنہ کو اپنے شوہر کی موت کا دکھ ہوا اور آپ کئی دنوں تک روتی رہیں ۔ وہ بہت افسردہ رہتی تھیں لیکن اب وہ اپنے بچے کی ولادت کا انتظار کر رہی تھیں ۔ جب بچے کی ولادت کا وقت نزدیک آیا تو بی بی آمنہ بڑی پریشان ہوئیں کیونکہ ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا ۔ انہوں نے تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کرلیں ۔ جب ٰآنکھیں کھولیں تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ ان کے کمرے میں ہر طرف نور ہی نور پھیلا ہوا ہے ۔ بہت سے فرشتے اور حوریں آسمان سے زمین پے آئیے ہو ئے تھے ۔ بی بی آمنہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور انہیں بہت سکون ملا اور ان کی پریشانی کم ہوئی تو ان کو نیند آگیں ۔ اسی دوران بی بی آمنہ کا

فرزند دنیا میں آگیا ۔

فرشتوں نے اس بچے کو ایک بہشتی طشت میں گلاب سے غسل دیا اور ایک صاف کپڑے میں لپٹ کر بی بی آمنہ کے پاس لٹا دیا ۔ بی بی آمنہ نے اپنے بیٹے کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھا اور پیار سے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیر ا اور خساروں پر پیار کیا ۔ بچے کا بدن خوشبو میں بسا ہوا تھا  ۔ بی بی آمنہ کو آج عبداللہ بہت یاد آرہے تھے ۔ لیکن وہ اپنے بچے کو دیکھ کر مطمئن تھیں اور اس سے باتیں کررہی تھیں ۔

بی بی آمنہ کی باتوں کی آواز سن کر برابر والے کمرے میں سوئی ہوئی امِ عثمان بیدار ہوئیں امِ عثمان ایک بوڑھی خاتون تھیں جو بی بی آمنہ کی مدد کیا کرتیں تھیں ۔ جب وہ بی بی آمنہ کے کمرے میں گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ کمرہ نور سے جگمگا رہا ہے ، ہر طرف خوشبو  پھیلی ہوئی ہے اور ایک بچہ بی بی آمنہ کے ساتھ بستر پر سو رہا ہے ۔

امِ عثمان یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور اسی وقت جناب عبدالمطلب کو پوتے کی ولادت کی خبر سنانے کے لئے چلی گئیں ۔

جب جناب عبدالمطلب کو پوتے کی خبر ملی تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے ۔ وہ اپنے پوتے کو دیکھنے کے لئے بی بی آمنہ کے کمرے کی طرف روانہ ہوئے اور جب گھر پہنچ کر پوتے کے قریب آئے اور کہنے لگے آمنہ کے کمرے میں اتنی اچھی خوشبو آرہی ہے ۔ کمرے میں داخل ہو کر انہوں نے بچے کو گود میں لیا  اور اسے پیار کرنے لگے اور کہا کہ ، یہ تو اپنے باپ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ۔

مکہ کے لوگوں کو جب پسرعبداللہ کی ولادت کی خبر ملی تو اسے دیکھنے آنے لگے ۔ جو بھی اس بچے کو دیکھتا وہ کہتا

اس کے چہرے پر کتنا نور ہے !    

اس کے بدن سے کیسی خوشبو آرہی ہے !

عبدالمطلب کو ایسے پوتے پر فخر کرنا چاہیے!

جناب عبدالمطلب نے اپنے پوتے کی ولادت پر بہت خوشیاں منائیں اور غریبوں کو کھانا کھلایا ۔ کئ دنوں تک غریب لوگ ان کے دسترخوان پر کھانا کھاتے رہے ۔ ساتویں دن  نومولود بچے کا نام رکھنے کے لئے جمع  ہوگئے ۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ

جناب عبدالمطلب  اپنے پوتے کا کیا نام رکھتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت عبدالمطلب نے مسکراکر کہا : میں اسے محمد (قابلِ تعریف) کہ کر پکاروں گا ۔ یہ سن کر ایک شخص بولا : محمد ایسا نام تو آج تک کسی عرب والے نے نہیں رکھا ہے ۔ جناب عبدالمطلب نے جواب دیا : اس لئے کہ میرے پوتے جیسا کوئی قابلِ تعریف بچہ آج تک پیدا نہیں ہوا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے