دہلی میں جلوس امام حسین علیہ السلام کی شرکت میں مولانا سید علی حسین قمی اور مولانا راجانی حسن علی روحانی کو پولس نے مزاحمت کے ساتھ روکا

دہلی : مورخہ 29 ستمبر /چہلم کے جلوس کے موقع پر جہاں پوری دنیائے میں غم و سوگ کا ماحول تھا وہیں پر ہمارے ملک یندوستان میں بھی ہر جگہ جلوس و ماتم و عزادری ہوئی ہیں ۔

دہلی میں جلوس امام حسین علیہ السلام کی شرکت میں مولانا سید علی حسین قمی اور مولانا راجانی حسن علی روحانی کو پولس نے مزاحمت کے ساتھ روکا 

دہلی : مورخہ 29 ستمبر /چہلم کے جلوس کے موقع پر جہاں پوری دنیائے میں غم و سوگ کا ماحول تھا وہیں پر ہمارے ملک یندوستان میں بھی ہر جگہ جلوس و ماتم و عزادری ہوئی ہیں ۔

روز چہلم امام حسین علیہ السلام دہلی میں واقع جورباغ کربلا میں لکھنو سے آئے ہو مولانا سید علی حسین قمی اور گجرات سے آئے ہوئے مولانا راجانی حسن علی روحانی کو جلوس میں جانے سے پولس نے روک دیا جب کہ مولانا قمی کی پولس کے ساتھ کافی بحث بھی ہوئی لیکن بحث کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔

چونکہ جور باغ کربلا دہلی میں شیعوں کا ایک بہت بڑا مرکز مانا جاتا ہے لہذا پوری دہلی سے عزادارن امام حسین ع جلوس میں آئے ہوئے تھے اور درگاہ شاہ مرداں کربلا کے بہت سارے گیٹ ہیں اور ہر گیٹ کافی دوری پر بنے ہوئے ہیں

اور آٹو رکشہ والے ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ کی طرف عزادروں کو ایک گیٹ سے دوسری گیٹ کی طرف لئے جا رہے تھے لیکن کہیں سے کربلا کے اندر جانے کا کوئی معاملہ بن نہیں پا رہا تھا

اس موقع پر جناب مولانا سید علی حسین قمی نے پولس کی اس کاروائی کی سخت مزمت کرتے ہوئے کہا کہ پولس کی بیجا زیادتی صحیح نہیں تھی کیونکہ جس بھیڑ کو  پولس کربلا کے اندر جانے سے روکے ہوئے تھی وہی بھیڑ تو باہر جمع تھی

مولانا قمی نے کہا کہ جس طرح سے جور باغ کربلا میں پولس کی زیادتی سے عورتوں اور بچوں کو جو پریشانی ہورہی تھی جس کی ہم مزمت کرتے ہیں ۔

مولانا راجانی حسن علی روحانی نے بھی کہا کہ کورونا کا بہانا بنا بنا کر کب تک شاسن اور پرشاسن پبلک کو بیجا پریشان کرنی رہیگی ۔

مولانا راجانی نے مزید کہا کہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کا یہ غم کا دن ہوتا ہیں لھذا زیادہ تر مومنین کرام سادے اور کالے کپڑے کے علاوہ بھوکے پیاسے ہی شرکت کرکے امام مظلوم کا پرسہ بارگاہ امام عصر کو پیش کرتے ہیں

Az Taraf Hasan Ali +919998269850

روز چہلم امام حسین علیہ السلام دہلی میں واقع جورباغ کربلا میں لکھنو سے آئے ہو مولانا سید علی حسین قمی اور گجرات سے آئے ہوئے مولانا راجانی حسن علی روحانی کو جلوس میں جانے سے پولس نے روک دیا جب کہ مولانا قمی کی پولس کے ساتھ کافی بحث بھی ہوئی لیکن بحث کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔

چونکہ جور باغ کربلا دہلی میں شیعوں کا ایک بہت بڑا مرکز مانا جاتا ہے لہذا پوری دہلی سے عزادارن امام حسین ع جلوس میں آئے ہوئے تھے اور درگاہ شاہ مرداں کربلا کے بہت سارے گیٹ ہیں اور ہر گیٹ کافی دوری پر بنے ہوئے ہیں

اور آٹو رکشہ والے ایک گیٹ سے دوسرے گیٹ کی طرف عزادروں کو ایک گیٹ سے دوسری گیٹ کی طرف لئے جا رہے تھے لیکن کہیں سے کربلا کے اندر جانے کا کوئی معاملہ بن نہیں پا رہا تھا

اس موقع پر جناب مولانا سید علی حسین قمی نے پولس کی اس کاروائی کی سخت مزمت کرتے ہوئے کہا کہ پولس کی بیجا زیادتی صحیح نہیں تھی کیونکہ جس بھیڑ کو  پولس کربلا کے اندر جانے سے روکے ہوئے تھی وہی بھیڑ تو باہر جمع تھی

مولانا قمی نے کہا کہ جس طرح سے جور باغ کربلا میں پولس کی زیادتی سے عورتوں اور بچوں کو جو پریشانی ہورہی تھی جس کی ہم مزمت کرتے ہیں ۔

مولانا راجانی حسن علی روحانی نے بھی کہا کہ کورونا کا بہانا بنا بنا کر کب تک شاسن اور پرشاسن پبلک کو بیجا پریشان کرنی رہیگی ۔

مولانا راجانی نے مزید کہا کہ عزاداران امام حسین علیہ السلام کا یہ غم کا دن ہوتا ہیں لھذا زیادہ تر مومنین کرام سادے اور کالے کپڑے کے علاوہ بھوکے پیاسے ہی شرکت کرکے امام مظلوم کا پرسہ بارگاہ امام عصر کو پیش کرتے ہیں

Az Taraf Hasan Ali +919998269850

Summary
دہلی میں جلوس امام حسین علیہ السلام کی شرکت میں مولانا سید علی حسین قمی اور مولانا راجانی حسن علی روحانی کو پولس نے مزاحمت کے ساتھ روکا
Article Name
دہلی میں جلوس امام حسین علیہ السلام کی شرکت میں مولانا سید علی حسین قمی اور مولانا راجانی حسن علی روحانی کو پولس نے مزاحمت کے ساتھ روکا
Description
دہلی : مورخہ 29 ستمبر /چہلم کے جلوس کے موقع پر جہاں پوری دنیائے میں غم و سوگ کا ماحول تھا وہیں پر ہمارے ملک یندوستان میں بھی ہر جگہ جلوس و ماتم و عزادری ہوئی ہیں ۔
Author
Publisher Name
jaunnews
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے