سابق کرکٹر ‏احتشام الدین چلنے پھرنے سے محروم

سابق کرکٹر ‏احتشام الدین چلنے پھرنے سے محروم

‏وزیراعظم عمران خان کی کپتانی میں ان کے ساتھ اٹیک بولنگ کرنے والے سابق فاسٹ بولر احتشام الدین چلنے پھرنے سے محروم ہوگئے، ڈاکٹرز ان کی پیچیدہ بیماری کی تشخیص کرنے سے قاصر ہیں۔ 

70 سالہ سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر احتشام الدین نے پانچ ٹیسٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی، انہوں نے 16 وکٹیں حاصل کیں 47 رنز کے عوض 5 وکٹیں ان کی بہترین بولنگ تھی۔

ان کی یہ کارکردگی 80-1979 میں بھارت کے خلاف کانپور ٹیسٹ میچ میں تھی، اسی ٹیسٹ کی اس اننگز میں سکندر بخت نے 56 رنز دیکر 5 وکٹیں لیں تھیں۔ یہ دوسرا پئیر تھا جس نے ایک اننگز میں 5 ، 5 وکٹیں لیں۔

‏کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد احتشام الدین کوچنگ سے وابستہ رہے، لیکن احتشام الدین اب کسی سہارے کے بغیر اٹھ بھی نہیں سکتے نہ ہی قدم اٹھاسکتے ہیں۔

احتشام الدین بتاتے ہیں کہ 2010 میں لاہور کی ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے کراچی میں تھے کہ میچ کے دوران گراؤنڈ میں طبیعت خراب ہوئی تو بیٹھے بیٹھے گر پڑے، ڈاکٹرز نے مرگی کا دورہ قرار دیا لیکن اس کے بعد ان کی صحت گرتی گئی۔

ڈاکٹرز تشخیص نہ کرسکے اور اب وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ 

احتشام الدین اپنے کئیر ٹیکر کے ساتھ اکیلے رہتے ہیں، اہلیہ کا انتقال ہوچکا اکلوتی بیٹی قومی سوئمر عیشا خان شادی کے بعد انگلینڈ چلی گئیں۔

احتشام الدین کہتے ہیں انہیں کوئی اور مسئلہ نہیں ہے بس چل نہیں سکتے،  لیکن شاید اللّٰہ کو ایسا ہی منظور ہے، یہ اللّٰہ کی رضا ہے، اگر انسان کے بس میں سب کچھ ہو تو انسان کو تو کچھ بھی نہ ہو، تاہم اچھا وقت گزر رہا ہے۔

‏سابق فاسٹ بولر احتشام الدین اپنے ساتھی فاسٹ بولر عمران خان کو فٹ کرکٹر قرار دیتے ہیں۔

احتشام الدین کہتے ہیں کہ عمران خان جب سے سیاست میں مصروف ہوئے ملاقات ہی نہیں ہوئی، دو عشرے پہلے باغ جناح میں واک کے دوران آخری بار ملاقات ہوئی تھی تب بھی کہا کرتے تھے کہ کرپشن کرنے والے کو چھوڑنا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ دعا ہے کہ اب وہ وزیراعظم ہیں اور اپنے ان مقصد میں کامیاب ہوں۔

احتشام الدین نے کہا عمران خان تگڑے انسان ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اتنی بلندی سے گرے اور بچ گئے۔

اپنی بیماری سے متعلق بتایا کہ میرے بھی پیروں تک طاقت ہے، خون کا بہاؤ بھی ہے، بازوؤں کی ایکسرسائز کرتا ہوں، بس چل پھر نہیں سکتا۔

‏احتشام الدین کہتے ہیں کہ ٹی وی دیکھ کر وقت گزارتا ہوں، پرانے دوست اور ساتھی کرکٹرز بھی دل بہلانے آجاتے ہیں، شفیق پاپا مجھے اکثر ملنے آتے ہیں، جبکہ ہارون رشید جب لاہور میں تھے تو آیا کرتے تھے۔



Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے