صحرا کا ننھا مسافر

صحرا کا ننھا مسافر

مکہ کے رہنے والوں کی یہ رسم تھی کہ وہ اپنے بچوں کو صحرا میں رہنے والوں کے سپرد کردیا کرتے تھے تاکہ وہ صحرا نشینوں کے ساتھ رہیں ۔ اس طرح سے بچے مکہ کی سخت گرمی سے بھی محفوظ رہتے تھے اور وہاں پہ ان کی تربیت بھی بہت اچھی ہوتی تھی ۔

بی بی آمنہ بھی چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا محمد مکہ کی گرمی سے محفوط رہے ۔ ان کا دل چاہتا تھا کہ محمد کی اچھی تربیت ہو اور وہ بہادر اور طاقت ور بن جائے ۔ لیکن بی بی آمنہ چاہتی تھیں کہ اپنے بیٹے کو کسی ایسے خاندان کے سپرد کروں جو بہت رحمدل اور بچوں سے پیار کرنے والے ہوں ۔ بی بی آمنہ نے کئی صحرا نشینوں سے ملاقات کی اور آخر کار ان کی ملاقات بی بی حلیمہ سے ہوئی جن کے چہرے سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ بہت  نیک اور رحمدل خاتون ہیں ۔ آپ بی بی حلیمہ سے کہا : میں اپنے بیٹے کو تمہارے حوالے کرنا چاہتی ہوں ۔ تم اسے اپنے ساتھ صحراء میں لے جانا اور اس کی طرح سے تربیت کرنا ۔

بی بی حلیمہ نے ننھے محمد کو اپنی گود میں لے کر پیار کیا اور اپنے ساتھ صحرا مین لے گیئں ۔ بی بی حلیمہ کا ایک اور چھوٹا بچہ بھی تھا جسے وہ دودھ پلانا چاہتی تھیں لیکن کافی عرصہ سے ان کے سینے میں دودھ نہیں آتا تھا ۔ لیکن جب انہوں نے ننھے محمد کو دودھ پلانا شروع کیا تو وہ حیران رہ گیئں ۔ اس لئے کہ محمد کی برکت سے بی بی حلیمہ کے دودھ سے دونوں کا پیٹ اچھی طرح بھر جاتا تھا ۔

اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صحرا میں پانی بہت کم تھا اور سبزہ بالکل نہیں تھا ۔ جس کی وجہ سے ان کی بھیڑیں کمزور ہوتی جارہی تھیں اور بھوک کی وجہ سے کئی بھیڑیں مر بھی چکی تھیں ۔ لیکن جب ننھے محمد صحرا میں آئے تو تیز بارش برسی جس سے صحرا پانی سے سیراب ہوگیا اور سبزہ بھی اگنے لگا ۔ اس طرح سے بھیڑوں کے لئے چارہ ٖفراہم ہوگیا اور ان کو بھی بھوک سے نجات ملی ۔ صحرا کے لوگ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے

محمد رفتہ رفتہ بڑے ہونے لگے ۔ وہ بہت خوبصورت تھے ۔ انہوں نے جلدی چلنا سیکھ لیا ۔ وہ ابتداء ہی سے ایسی باتیں کیا کرتے تھے جسے سن کر لوگ حیرت زدہ ہوجایا کرتے تھے ۔ صحرا کے لوگ جانتے تھے کہ اسی محمد کی وجہ سے بہت سی مشکلات ان سے دور ہوئی ہیں اس لئے وہ ان سے بہت محبت کرتے تھے ۔ جب وہ بڑے ہوگئے تو حلیمہ انہیں لے کر مکہ آگئیں تاکہ محمد ان کی والدہ جناب آمنہ کے سپرد کردیں ۔ جب مکہ کے قریب پہنچیں تو جناب آمنہ ایک ٹیلے پر کھڑی ہوئی اپنے بیٹے کا انتظار کررہی تھیں ۔جب محمد ان کے پاس پہنچےتو بی بی آمنہ نے انہیں بہت پیار کیا ۔ اب محمد اپنے دادا کے ساتھ رہنے لگے ۔ محمد کے دادا حضرت عبدالمطلب کہیں جاتے تو  اپنے پوتے کو ساتھ لے جاتے ۔ بی بی آمنہ بھی ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے