فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالنا انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے کی نشاندہی کرتا ہے

انفارمیشن فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایک روز قبل کراچی میں ہونے والے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے دوران ووٹوں کی کم تعداد کا اشارہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام انتخابی عمل پر اعتماد کھو رہے ہیں۔

جمعہ کو ٹویٹر پر ایک پیغام میں وزیر اطلاعات نے ایک بار پھر حزب اختلاف سے کہا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لئے وزیر اعظم عمران خان کے مشوروں پر غور کریں۔

انہوں نے پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ایک نشست کی خاطر پورے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ انتخابی اصلاحات کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا۔

جمعرات کو شہر کے ضلع مغرب میں ہونے والے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ، غیر سرکاری ، عارضی نتائج کے ساتھ حتمی گنتی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین قریبی مقابلہ دکھایا گیا۔

اس نشست پر کامیابی کے لئے پیپلز پارٹی کے عبد القادر مندوخیل نے 16،156 ووٹ حاصل کیے ، اس کے بعد مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل نے 15،473 حاصل کیں ، پولنگ اسٹیشنوں سے غیر سرکاری نتائج سے ظاہر ہوا۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) سمیت بڑی سیاسی جماعتوں نے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے نتائج کو مسترد کردیا ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے اپنے امیدوار قادر خان مندوخیل کی جیت کا جشن منایا۔


.

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے