مدینہ منورہ کے جنت البقیع کے قبرستان میں آئمہ معصومین (ع) کے مزارات کو منہدم کئے گئے مولانہ حسن علی راجانی

مدینہ منورہ کے جنت البقیع کے قبرستان میں آئمہ معصومین (ع) کے مزارات کو منہدم کئے گئے مولانہ حسن علی راجانی

 نئی دہلی :  نئی دہلی مورخہ 20 اپریل  کے روز مولانا راجانی حسن علی روحانی نے کہا کہ جنت البقیع  مدینہ منورہ صرف ہمارا ہی قبرستان اور مسئلہ نہیں ہے بلکہ پورے عالم اسلام کا وہ واحد قبرستان اور مسئلہ ہے، جہاں چار چار معصوم امام یعنی حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام ، امام زین العابدین علیہ السلام ، امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی قبور مطہر کے علاوہ رسول پاک ( ص )  کے چچا جناب عباس، امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی والدہ جناب فاطمہ بنت اسد، حضرت عباس علیہ السلام کی والدہ جناب ام البنین، ازواج رسول، اصحاب رسول دفن ہیں۔ بلکہ زمانہ پیغمبر ( ص ) سے آج تک جتنے لوگ بھی مدینہ یا اطراف کے لوگ وفات پاتے تھے وہ سب اسی قبرستان میں دفن ہوتے تھے۔ اہل سنت کے امام مالک بھی اسی جنت البقیع کے قبرستان میں دفن ہیں اور یہ قبرستان مسلمانوں کا پہلا قبرستان ہے جہاں کم سے کم صدر اول کے بہت سے صحابہ و تبع صحابہ مدفون ہیں روایات کے مطابق رسول پاک ( ص) اکثر یہاں تشریف لاتے اور فرماتے تھے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں جنت البقیع جاوں اور وہاں جاکر مدفون لوگوں کی مغفرت کیلئے دعا کروں۔ انہدام جنت البقیع سے قبل جو بھی مسلمان بلا تفریق مذہب و ملت کے مدینہ ء منورہ جاتا تھا وہ جنت البقیع قبرستان میں واقع مزارات پر بھی ضرور جاتا تھا اور وہاں اکثر مزارات پر گنبد و بارگاہیں تعمیر تھیں۔لیکن افسوس صد افسوس آج سے 98 سال قبل 8 شوال 1344 کو منحوس و ملعون آل سعود نے بلڈوزر چلا کر جنت البقیع کو ویران کر دیا۔ ابن بطوطہ کا بیان ہے کہ انہدام جنت البقیع کے بعد جب میں جنت البقیع پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہاں جیسے بہت بڑا  زبردست زلزلہ آیا ہو کہ ہر جانب ویرانی ہی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ مولانا راجانی حسن علی روحانی نے کہاکہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنے حق کے لئے نکلیں اور نکلنا بھی چاہئے ۔ مولانا راجانی حسن علی روحانی نے کہا کہ 8 شوال بمطابق 21 مئی 2021 کو روز انہدام جنت البقیع ہے اور دنیا بھر کے شیعہ حضرات ایک احتجاج بھی کر دیتے ہیں جس پر مولانا راجانی نے کہا کہ اب آج آٹھ شوال 1442ہجری سے لیکر 1444 تک جو دو سال میں  پورے سو 100 سال مکمل ہو جاتے ہیں تو ہم اب اس موقع پر پوری دنیا کے فقط شیعہ ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانان عالم کوجو رسول (ص) و آل رسول (ع ) کا بھی احترام کرتے ہیں وہ ہمارے آج 8 شوال 1442 سے لیکر 1444 تک مسلسل اس دوسال والے احتجاج میں شامل ہو کر اپنا دینی فریضہ ادا کرکے مثاب ہوں ۔ مولانا راجانی نے کہا کہ اب دو سال بعد جنت البقیع کو شہید کئے ہوئے سن ہجری 1444 میں پورے سو 100 مکمل ہوجائینگے تو ہم اس وقت اس ویران کئے گئے جنت البقیع کے قبرستان کے مزارات کی تعمیر نو کیلئے ہم تمام مسلمانان عالم سے کہینگے کہ اب وہ اپنے اپنے گھروں سے  نکل پژے اور کرو یا مرو کی تحریک کو لیکر آگے بڑھے اور جنت البقیع میں واقع قبور آئمہ و اصحاب کے مزارات کی تعمیر نو کی مانگ کو پوری کرکے ہی دم  لیں ۔ مولانا راجانی نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک شہر گاوں قصبہ میں انتظامیہ کی اجازت لیکر اس احتجاج میں بیٹھ جائے اور سعودی حکومت کو بھی دوسال کا وقت دیدے کہ وہ دوسال کے اندر ہمارے مطالبات پورے کرے اور مزارات کی تعمیر کی اجازت دیدیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ہماری کرو یا مرو کی دوسال کی تحریک میں کھڑے ہو کر  ہماری مدد فرمائیں جس طرح مسئلہ فلسطین کو لیکر دنیا بھر کے شیعہ مسلمان فلسطینی مسلمانوں کیلئے اسرائیل کی سخت مزمت کے علاوہ فلسطینی مسلمانوں کی حمایت میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے