نیوزی لینڈ ٹیم کے 18 سال بعد دورۂ پاکستان کا شیڈول جاری

نیوزی لینڈ ٹیم  کے 18 سال بعد دورۂ پاکستان کا شیڈول جاری

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نیوزی لینڈ کے دورۂ پاکستان کا شیڈول جاری کردیا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم آئندہ ماہ 18 سال بعد پاکستان کا دورہ کرے گی، اس دوران مہمان ٹیم آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ سپر لیگ میں شامل تین ون ڈے انٹرنیشنل میچز اور پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے گی۔

دونوں ٹیموں کے مابین ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں شامل تینوں میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔ یہ میچز 17، 19 اور 21 ستمبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔سیریز میں شامل تمام پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے، جو 25 ستمبر سے 3 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔

جہاں سیریز میں شامل تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2023 میں رسائی کے لیے اہم ہوں گے تو وہیں پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز بھی قومی کرکٹ ٹیم کے لیے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے کا بہترین موقع ثابت ہوں گے۔

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی فاتح ٹیم نیوزی لینڈ ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئندہ سال پاکستان آئے گی ۔

نیوزی لینڈ وہ پہلی ٹیم ہوگی جو پاکستان میں موجود شائقین کرکٹ کے لیےترتیب دیئے گئے بمپر کرکٹ سیزن 22-2021 میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔

نیوز ی لینڈ کے بعد انگلینڈ کی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان کا دورہ کریں گی، جس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنے کراچی پہنچے گی۔آسٹریلیا کو بھی آئندہ سال فروری مارچ میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔

’نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ سیزن کا بہترین آغاز ہوگا‘

چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہےکہ نیو زی لینڈ کیخلاف سیریز پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ سیزن کا بہترین آغاز ہوگا۔ نیوزی لینڈ نہ صرف آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی فاتح بلکہ ورلڈکپ 2019 کی فائنلسٹ ٹیم بھی ہے۔ وہ آئی سی سی کی موجودہ ورلڈٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بھی تیسرے نمبر پرموجود ہے۔ مہمان ٹیم کا دورہ پاکستان شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ایک محفوظ اور پرامن ملک ہونے کی دلیل ثابت ہوگا۔

چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ نے ہماری درخواست پر دورے میں دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کے اضافے پر آمادگی ظاہر کی ۔ سیریز میں یہ اضافہ نہ صرف دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کو آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاریوں میں معاونت کرے گا بلکہ اس سے نیوزی لینڈ کے کرکٹرز کو پاکستان میں مزید وقت گزارنے کا موقع بھی ملے گا، جس سے وہ پاکستانی ثقافت سے روشناس ہوسکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دور ےسے پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی بہترین میزبانی سے دنیا کو یہ بآور کروانے میں کامیاب ہوگا کہ یہاں کرکٹ مکمل طور پر بحال ہوچکی ہے۔ اس دورے سے نہ صرف باصلاحیت کھلاڑی سامنے آئیں بلکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد میں اس کھیل کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

نیوزی لینڈ نے اس سے قبل نومبر 2003 میں آخری مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گئے تھے۔ 2003 کے بعد پاکستان اب تک تین مرتبہ نیوزی لینڈ کی میزبانی کرچکا ہے تاہم یہ تمام میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے تھے۔

’پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں‘

چیف ایگزیکٹو نیوزی لینڈ کرکٹ ڈیوڈ وائیٹ کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں،  ہم پاکستان کے ہوم انٹرنیشنل سیزن کے آغاز میں پاکستان کا دوبارہ دورہ کرنے کے منتظر ہیں۔

ڈیوڈ وائیٹ نے کہاکہ بھارت سے باہر نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کا دورہ کیا اور ہمارے پی سی بی کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔خوشی ہے کہ ایک مشکل وقت ختم ہونے کے بعد اب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوچکی ہیں۔

سپر لیگ میں پاکستان 9 میچز کے بعد 40 پوائنٹس حاصل کرچکا ہے جبکہ نیوزی لینڈتین میچز کھیل کر 30 پوائنٹس حاصل کرچکا ہے۔ لیگ میں شامل سات سر فہرست ٹیمیں اور میزبان بھارت کی ٹیم آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 2023 میں براہ راست رسائی حاصل کرلے گی۔

سیریز کا مکمل شیڈول:

11ستمبر: اسلام آباد آمد

12تا14 ستمبر:روم آئسولیشن

15تا16ستمبر: ٹریننگ/ پریکٹس/ انٹرا اسکواڈ میچ

17ستمبر: پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ، راولپنڈی

19 ستمبر: دوسرا یک روزہ بین الاقوامی میچ، راولپنڈی

21 ستمبر: تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی میچ، راولپنڈی

25 ستمبر: پہلا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور

26ستمبر: دوسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور

29ستمبر: تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور

یکم اکتوبر:چوتھا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور

3اکتوبر: پانچواں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ، لاہور



Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے