کرو ناکےپھیلاوکی روک تھام ۔احتیاط علاج سے بہتر ہے زندگی سے پیارکریں

 جان ہے تو جہان ہے نہیں تو منوں مٹی کے نیچے قبرستان ہے ہے زندگی ایک دارالامتحان ہے دنیا ایک کرونا کی جنگ سے نبرد آزما ہے جنگ کی تعریف یوں ہے:

 دو آدمی دو گروہوں کے نظریات کے  اختلا ف کا نام جنگ ہے ؛

کروناکی جنگ کے بارے میں آج سے پچاس سال قبل ایک روحانی اسکالر جین ڈکسن کی پیشین گوئیوں میں جراثیمی جنگ یعنی بائیو وار کے متعلق تفصیل سے بتایا گیا ہے

جس کی تصدیق انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کی ہے جنکے مطابق کرونا تین مختلف وائرس کا مجموعہ ہے اگر ہم کرونا وائرس کو ایک انسانی جسم کی طرح دیکھیں تو اس جنیوم کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں

 ایک حصہ یعنی دھڑ ملیریا کے جراثیم جس کو پلازموڈیم کہا جاتا ہے

دوسرا حصہ یعنی سرایک اور وائرس ہے

تیسرا حصہ یعنی اس کی ٹانگیں سارس کویڈ ون ہے

یہ ایک کانگووائرس کا مجموعہ ہے سائنسی تحقیق میں مختلف وائرس

مل کر ایک جنیوم کی شکل میں ظاہر ہونا کافی نہ ممکن ہے

مختلف وائرس کا قدرتی طور پر اکٹھے ہونا ناممکن ہے ان کو اکٹھے کرنا انسانی دماغ کا عمل دخل ہے یعنی اس طرح کے وائرس کی تیاری صرف لیب میں ہوسکتی ہے

یہ ایک جراثیمی جنگ ہے جو انسان نے انسان کے خلاف مسلط کی ہے

کرونا جنگ کے بارے میں رائے

جب پوری دنیا کرونا جنگ کا شکار ہے جب انسان حالت جنگ میں ہو تو ہر انسان کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے اس سے بالکل ڈرنانہیں چاہیے

 خالق کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور ایسے ٹولز عطا کئے ہیں جن کو استعمال کرکے ہم بڑی آسانی سے اس پر قابو پا سکتے ہیں ہیں

اللہ تعالی نے انسان کے اختیار میں ایسی چیزیں دے دی ہیں اگر ہم ان کو سمجھ پائیں اور ان کو استعمال کر پائیں تو ہم کرو ناکو شکست دے سکتے ہیں

دنیا میں وائرس کی اقسام

دنیا میں سائنسی تحقیق کے مطابق وائرس دو قسم کی ہوتی ہے

 ایک وائرس جس کو ڈی این اے کا نام دیا گیا ہے یہ وائرس جیسا ہے ویسا ہی رھتا ہے

دوسرا وائرس کو ار این اے کا نام دیا گیا ہے ار این اے وائرس اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہے جب تک وہ موجود ہے انسان اس کے ساتھ ساتھ اپنی ویکسین بھی تبدیل کرتا رہتا ہے کرونا اراین اے  وائرس کی قسم ہے

کیا انسانی مدافعتی نظام کرونا کا مقابلہ کر سکتا ہے

اللہ تعالی نے ہمارے جسم میں مدافعتی نظام یا قدرتی دفاعی نظام جو جراثیم سے جنگ کرتا ہے جس کو بیالوجی نیچرل کلر سیل کا نام دیا ہے اربوں سیلزہمارے جسم کی حفاظت پر متعین ہیں

یہ باڈی کا وہ مؤثر ہتھیار ہے جو کرونا کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہے  قوت  مدافعت کے نظام کو ٹھیک رکھنے کے لئے سب سے پہلے اپنے

معدے کو درست رکھیں ہمارا   مین سسٹم ہمارے معدہ میں ہے

 نیچرل کلر سیل کی تعداد کو بڑھانے کے لئے سب سے بڑی چیز وٹامن اے اور ڈی ہے ایسی خوراک کا استعمال کریں جس سے وٹامن اے اور ڈی بن سکے

امیون سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے کون سی چیزیں استعمال کریں

نمبر1

دہی

نمبر2 لہسن  اور ادرک

ان کے استعمال سے ہاٹ پرابلم نہیں ہوں گے آپ کی میموری بہتر ہوگی

نمبر3 خوبانی

سب  سے بہترین  پھل خوبانی ہے جو کہ وٹامن اے سے بھرپور ہے نمبر 4  زنک

جو کا جو اور خشک میوہ جات میں ہے

سمندری اور دریائی مچھلی میں بھی ہے

 نمبر 5 لونگ

 دنیا میں سب سے طاقتور چیز جو جراثیم کے خلاف  کلنگ کیپسٹی  رکھتی ہے  امیون سسٹم کو مضبوط کرتا ہے

نمبر6 کلونجی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہے کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے اس کے علاوہ جو چیزیں یا پھل امیون سسٹم کو بہتر کرتے ہیں جن میں وٹامن اے اور ڈی پایا جاتا ہے وہ ہے

تربوز ،لوکاٹ ،گاجر ،پپیتا،ام ،چقندر،کدو،پیٹھا،

وغیرہ کو بھی اپنی خوراک میں شامل کریں

وٹامن اے  اور اور ڈی کے سپلیمنٹ بھی ضرور استعمال کریں

 ایمیون سسٹم کو نقصان دینے والی چیزیں

نمبر1

ڈائٹنگ کے نام پر بلاوجہ معدے کو خالی نہ رکھیں یعنی بھوکا نہ رہیں

نمبر2

 پیکج فوڈ یا  ڈبہ فوڈ جس میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے

نمبر3

گھی کا استعمال کم کریں اس کی بجائے سرسوں کا تیل زیتون کا تیل یا ویجیٹیبل آئل استعمال کریں

 نمبر4

سفید چینی   مت استعمال کریں گڑ شکر یا شہد استعمال کریں

نمبر 5

بیکری پر تیار کی گئی اشیاء سے گریز کریں

کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کا حل کیا ہے

 اللہ تعالی نے ہم کو امیون سسٹم دیا ہے اس کو مضبوط کریں کرونا کو روکنے کے لئے ویکسی نیشن اور ایس او پیز پر عمل کریں 

مگر یہ کرو نا کا مکمل حل نہیں ہے یہ پارٹ اف  سلوشن ہے یعنی اس کا تھوڑا بہت حصہ ہے سلوشن یہ ہےکہ ھم اپنے ایمیون سسٹم کومضبوط کریں اگر ہم  ان تینوں چیزوں کو ملاکر چلتے ہیں تو ہم کرونا جنگ سے بہت جلد باہر نکل آئیں گے انشاءاللہ

نتیجہ :

خدارا کرو نا جنگ کو مذاق نہ سمجھیں اس صورتحال اس صورتحال پر غور کریں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں ہم پر جراثیمی جنگ مسلط کر دی گئی ہے اور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے

کیونکہ یہ بائیو وار ہے اور ہم نے اس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے اور آگے بڑھنا ہے اگرچہ قاتل کرونا ایک ایسا وائرس ہے جو اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہے ویکسینیشن کا عمل مکمل کریں ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں اور اپنے امیون سسٹم کو مضبوط کریں

 اپنا خیال رکھیں اپنے عزیزوں کا خیال رکھیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو اور آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین نوٹ:

 انسانیت کی بھلائی اور صدقہ جاریہ سمجھ کر اس پوسٹ کو کم ازکم پانچ لوگوں کا ضرور شئیر کریں (ادارہ)

Summary
کرو ناکےپھیلاوکی روک تھام ۔احتیاط علاج سے بہتر ہے زندگی سے پیارکریں
Article Name
کرو ناکےپھیلاوکی روک تھام ۔احتیاط علاج سے بہتر ہے زندگی سے پیارکریں
Description
جان ہے تو جہان ہے نہیں تو منوں مٹی کے نیچے قبرستان ہے ہے زندگی ایک دارالامتحان ہے دنیا ایک کرونا کی جنگ سے نبرد آزما ہے جنگ کی تعریف یوں ہے
Author
Publisher Name
Jaun News
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے