شهادت گاہ الفت میں قدم رکھنا ہے

جناب رسول خدا نے محرم کے مہینے کو اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے۔ روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت ہی اہم واقعات رونما ہوئے ۔ اسلام سر فروشوں ، سر ہتھیلی پر رکھنے والوں اور اپنی جانیں دین اسلام کی سربلندی کے لئے شکار کرنے والوں کا دین ہے۔

 حرم کعبہ شریف کی بنیادیں رکھتے ہوئے سید ابراہیم نے سیدنا اسمعیل کی جو قربانی پیش کی اور جسے دن عظیم میں بدل دیا گیا وہ قربانی اس پاک گھرانے میں چلتے چلتے 61ہجری میں سیدی و سید امام حسین سید پیغمبر کی قربانی پر مفت ہوئی۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ کر بلاک تعلق مسلمانوں کی تاریخ سے زیادہ قیامت تک اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کی حقیقت سے ہے۔

غریب و سادہ ورنگیں ہے داستاں حرم ۔ نہایت اس کی حسین ” ابتدا ہے اسمعیل”۔ کرب و بلا سے ہمیں درس مانتا ہے کہ حجروں میں بیٹھ کر بات کرنے سے شاید فرد واحد کو تو کچھ فائدہ ہو لیکن اس سے دین کی کوئی خد مت نہیں ہوتی ۔ جس طرح سید ابراہیم و سید نا سمعیل کی قربانی کی روایت میں بے عیب جانور قبول ہوتا ہے بالکل اسی طرح اسلام کی محبت کی قربان گاہ پر صرف پاک صاف، طاہر و مطہر بے عیب ہستی کی قربانی قبول ہوتی ہے۔ ابتلا و آزمائش میں صبر ورضا کامیابی اور انعامات کی ضمانت ہے لیکن ابتلا میں سجدہء شکر جنت کی سرداری دلاتا ہے۔ سورۃ بقرہ کی آیت 124 میں ارشاد ہوتا ہے کہ ابراہیم کو اس

کے رب نے ابتلا میں ڈالا جس پر وہ پورا اتر اتب اس کے رب نے اسے تمام انسانوں کا امام مقرر کیا۔ اسی تناظر میں امام عالی مقام کی ابتلا کا جائزہ لیجئے۔ افسوس کا مقام

ہے کہ یزید کے حواریوں اور اہلکاروں نے امام کے مقام بلند کو گھٹانے کے لئے جو کہانیاں گھڑیں ان کو بعد میں اتنی کامیابی سے پھیلایا گیا کہ اصلی جد و جہ ہی نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گئی۔ یونانی ادب کی روایت میں ہیں وہ ہوتا ہے جس کے سامنے بچنے کے لئے راستے ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے خود موت کے راستے کا انتخاب کرتا ہے۔

سبط رسول کا مشن تو بہت ہی اعلی اور عظیم ترین تھا، طاغوت کی حکمرانی اور انسان کے خدا بن جانے سے لا الہ کی بنیاد کمزور پڑ رہی تھی۔ آپ نے تو وہ کر کے دکھاتا تھا جو رہتی دنیا تک اعلی ترین مثال بنے، جو بنائے لا الہ مضبوط کرے۔ آپ مکہ سے چل کر کربلا پہنچے اور سارے راستے اپنے نصب العین کی کھلے عام وضاحت کرتے رہے ۔

اس وقت یزید کی طرف سے مکہ المکرمہ کے گورنر خالد بن عبد الله قصری نے ایک ڈس انفارمیشن کمپین کی کہ آپ نے یزیدی افواج کے سامنے تین آپشنز میں۔ یہ سب جھوٹ اور ڈس انفارمیشن ہے۔ تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں مانتا۔ اس نے یہ بات بھی گھٹڑی کہ جب امام کو چھوڑ کر باقی سب نے یزید کی بیعت کر لی تھی تو یزید کا امام سے بیعت کا مطالبہ جائز تھا۔ اس پر سید مودودی کا یہ استدلال بہت خوبصورت ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ جب سب نے بیعت کر لی تھی تو امام حسین نے کیوں نہیں کی، اصلی سوال یہ ہے کہ جب امام عالی مقام نے بیعت نہیں کی تھی تو دوسروں نے کیو نکر بیعت کر لی۔ گورنر مکہ خالد کو تو نہیں اسی دنیا میں سزا مل گئی۔

بنو امید کے ہی ہاتھوں معزول ہوا اور بہت تکلیف دہ موت مرا۔ امام عالی مقام نے سوچ سمجھ کر اس راستے پر قدم اٹھایا اور ابتلاء کی انتہا پر سجدہ شکر کی حالت میں اپنے خالق سے جا ملے۔ ایک اسلامی حکومت کیسے قائم ہو ، اس کے خدوخال کیسے ہونے چائیں ، سربراہ کیا ہو اور عوام کیسے ہوں یہ سب کچھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کر کے دکھا دیا۔

اسلامی حکومت کے باغیوں کے بارے میں کیا احکامات ہیں، یہ سیدنا علی نے مل کر کے دکھادیا۔ اگر حکمران بگڑ جائے زمین پر خدا بن بیٹھے ، تو کیا کیا جائے، یہ سب امام حسین نے مل کر کے دکھادیا۔ سیدنا حسین کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کبھی بھی نظام کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ ابو الکلام آزاد نے لکھا

ہے کہ خلافت کو ملوکیت میں بدل کر بنو امیہ کی حکومت غیر اسلامی حکومت تھی۔ تاریخ میں کسی ایک بھی صحابی کا امام حسین کو روکنا ثابت نہیں ہے۔ امام حسین رسول اللہ کی اس بیٹی کے صاحبزادے ہیں جن کی تشریف آوری پر رسول خدا انتہائی شفقت، پیار اور گرم جوشی سے اٹھ کر استقبال فرماتے تھے۔ جو جنتی خواتین کی سردار ہیں ۔

 امام ابن حبان نے ام المومنین سیدہ عائشہ سے ہی ایک روایت کی ہے کہ میں نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا سے زیادہ کسی کو بھی بات چیت میں رسول خدا کے مشابہ نہیں دیکھا۔ امام مسلم نے سیدہ عائشہ سے ہی ایک اور روایت لی ہے جس میں ام المومنین فرماتی ہیں کہ ایک صبح حضور (ص)کالی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس میں آپ (ص)نے سیدنا علی ، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا، سیدنا حسین اور سیدنا حسین کو ڈھانپ کر فرمایا کہ یہ میرے اہل بیت ہیں۔ امام عالی مقام بظاہر "تکالیف، پریشانی اور ابتلا میں سے گزر رہے تھے لیکن اصل میں راحت جاوداں سے سرشار تھے۔

بظاہر آپ کی جان لے لی گئی لیکن قرآن نے آواز دی کہ جان نہیں لی۔ انہیں مردہ مت کہو تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔ بظاہر موت اور اصل میں زندگی۔ اصل میں یہی راز الفت ہے ،ر از زندگی ہے۔ شہادت کا      الفت میں

قدم رکھنا ہے۔ لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہو نا۔ اللہ کے لئے ابتلاء اللہ سے ملاقات اور جلوہ ہے۔ مقام کربو با ایمان و یقین کی سب سے اونچی منزل ہے۔ یہی عملی ولایت ہے۔ مقام کر بی سرفرازی ہے۔ موت کی جان کی اتنی تکلیف دہ ہے کہ ہر مرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ دو بار اس اذیت سے نہ گزرے۔ سیدنا علی اکبر نے ایک موقع پر فرمایا کہ شہد اتنا     میٹھا نہیں ہوتا جتنی شہیدوں کے لئے موت میٹھی ہوتی ہے۔ امام عالی مقام، آپکے آباؤ اجداد، آپ کے گھروالوں اور آپ کے جان نثاروں پر غلام ابن غلام کا سلام۔

Summary
شهادت گاہ الفت میں قدم رکھنا ہے
Article Name
شهادت گاہ الفت میں قدم رکھنا ہے
Description
جناب رسول خدا نے محرم کے مہینے کو اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے۔ روایات کے مطابق اس مہینے میں بہت ہی اہم واقعات رونما ہوئے ۔ اسلام سر فروشوں ، سر ہتھیلی پر رکھنے والوں اور اپنی جانیں دین اسلام کی سربلندی کے لئے شکار کرنے والوں کا دین ہے۔
Author
Publisher Name
jaunnews
Publisher Logo

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے